مہر خبررساں ایجنسی، دینی ڈیسک: جب امام صادقؑ سے پیغمبر کے «خُلقِ عظیم» کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے فرمایا:«هُوَ الْقُرْآنُ» یعنی اس سے مراد خود قرآن ہے۔
کیا «خُلقِ عظیم» کا مطلب صرف مسکرانا اور دوسروں کو معاف کر دینا ہے؟ پیغمبرِ اکرم کی مستند سیرت کا ازسرِنو مطالعہ بتاتا ہے کہ خُلقِ عظیم درحقیقت ایک تہذیبی و تمدنی نقشۂ راہ ہے۔
دورِ جاہلیت میں جوانمردوں کے معاہدے «حلفُ الفضول» سے لے کر فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان تک، پیغمبر نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اخلاق اسلامی شریعت کے اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے۔
دینی علوم کی محقق محترمہ فائزہ طہماسبی روایتی اور بار بار دہرائی جانے والی تعریفوں سے آگے بڑھتے ہوئے یہ واضح کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ پیغمبرِ اسلام نے اخلاق اور عدل پسندی میں پیش قدمی کرتے ہوئے اخلاق کو ایک مجرد تصور سے نکال کر اجتماعی زندگی کے ایک عملی قانون میں تبدیل کر دیا۔
لفظ «رحمتٌ للعالمین» آج بہت زیادہ دہرایا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات اسے محض انفرادی اور جذباتی مہربانی تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ اس تصور کے پوشیدہ اور ساختی پہلو کیا ہیں؟
«رحمتٌ للعالمین» کو محدود اور سطحی انداز میں دیکھنا اس قرآنی تصور کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں رحمت صرف ہمدردی کا نام نہیں، بلکہ اس سے مراد زندگی بخش اور ہمہ گیر نظام ہے۔
جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ مَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ. یعنی اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے، تو درحقیقت ہمارے لیے ایک تمدنی نقشۂ راہ پیش کیا جا رہا ہے۔
ایک نہایت اہم اور کم بیان کیا جانے والا نکتہ یہ ہے کہ پیغمبر کی رحمت ساختی اور اجتماعی نوعیت کی رحمت تھی۔ مثال کے طور پر صلحِ حدیبیہ کے واقعے کو دیکھیے! آنحضرت کے بہت سے قریبی اصحاب بظاہر مشرکین کے حق میں نظر آنے والی شرائط پر دل گرفتہ ہوئے، لیکن پیغمبر نے اس معاہدے کو قبول کرکے ہزاروں انسانوں کے خون بہنے کا راستہ کئی دہائیوں تک روک دیا اور فکری و نظریاتی نشوونما کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کیا۔
لہٰذا آنحضرت کی رحمت محض جذباتی شفقت تک محدود نہیں تھی، بلکہ بحران کا نظم و نسق، دوراندیشی اور ہمہ گیر اجتماعی حکمتِ عملی بھی آنحضرت کی رحمت کا نہایت اہم حصہ تھی۔
اگر ہم پیغمبر کی رحمت کے مختلف پہلوؤں کو سامنے رکھیں تو اس کا دائرۂ کار نہایت وسیع ہے۔ آنحضرت کی رحمت جنگلی حیات اور ماحولیات تک کو شامل تھی۔ یہ محض کوئی عیشی اخلاقی نصیحت یا دیکھنے کی حد تک ایک خوبصورت تصور نہیں، بلکہ طرزِ زندگی کے لیے ایک باقاعدہ اصول ہے۔
پیغمبر وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے حَرَم (یعنی محفوظ علاقہ) اور ذِمّہ (غیر مسلموں بلکہ بعض روایات کے مطابق حیوانات کو بھی پناہ اور تحفظ فراہم کرنے کے تصور) کو ایک قانونی اور اخلاقی ڈھانچے کے طور پر بنیاد فراہم کی۔
آنحضرت نے رحمت کو صرف دل میں موجود ایک جذبے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے معاشرے کی سطح پر ایک قانون اور اجتماعی طرزِ زندگی میں تبدیل کر دیا۔
پیغمبر کا اخلاق دوسروں کے رویّے کا تابع نہیں تھا
اس حوالے سے قرآن فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ.
یہ آیت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے پیغمبر کے اخلاق کی تعریف ہے۔
مکارمِ اخلاق کی اس بلندی اور معراج کا حقیقی اظہار آخر کس مقام پر ہوتا ہے؟ کیا یہ صرف خوش اخلاقی اور درگزر کرنے تک محدود ہے؟
نہیں؛ خوش اخلاقی اور بخشش، اخلاق کی تمہید ہیں نہ اس کی معراج۔
میری نظر میں، پیغمبر کی منطق میں مکارمِ اخلاق کی بلند ترین منزل طاقت اور کمزوری کے سنگم پر مکمل توازن کا مظاہرہ ہے۔
آئیے مستند اور دقیق انداز میں بات کرتے ہیں: اخلاق کی معراج، اقتدار کے عروج پر معاف کر دینا ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر، آنحضرت جزیرۂ عرب کے سب سے طاقتور انسان تھے، لیکن انتقام لینے کے بجائے فرماتے ہیں: آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔
یہی اخلاق کی معراج ہے۔
اس کے برعکس مکہ، شعبِ ابی طالب اور طائف میں، جب آنحضرت انتہائی کمزور، بھوک اور سنگ باری کی حالت میں تھے، تب بھی آنحضرت بددعا نہیں کرتے، بلکہ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے دعا فرماتے ہیں!
اس سے بھی گہری بات نادان دشمن کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔ قرآن سورۂ فرقان میں فرماتا ہے:وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا.پیغمبر کے اخلاق کی معراج یہ ہے کہ آنحضرت مدمقابل کے برے رویّے کو اپنے اخلاقی معیار کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ آنحضرت اپنے اخلاق کو معاشرے کے رویّے کے مطابق نہیں، بلکہ اپنی الٰہی شناخت اور ربانی کردار کے مطابق ترتیب دیتے ہیں۔ یہی شخصیت کی مکمل خودمختاری ہے، جسے ہم پیغمبر کے طرزِ عمل اور طرزِ زندگی میں بارہا دیکھتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک بات پر توجہ ضروری ہے: اس کا بار بار مشاہدہ ہمارے لیے معمول کی بات نہیں بننا چاہیے، کیونکہ یہی طرزِ عمل ہماری زندگی کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ خدا کے تمام عظیم انبیاء نہایت پاکیزہ اور اخلاقی فضائل کے حامل انسان تھے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ پیغمبرِ اسلام ممتاز مقام رکھتے ہیں تو اس سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ امتیاز صرف ان فضائل کی ’’شدت‘‘ میں ہے یا ان کی ’’نوعیت اور مقام‘‘ میں بھی فرق ہے؟
فرق یہ نہیں کہ ہم یہ کہیں کہ پہلے انبیاء اچھے تھے اور ہمارے پیغمبر ان سے بہتر تھے۔ تمام انبیاء پاکیزہ اور معصوم تھے۔ اصل فرق یہ ہے کہ آنحضرت کی تعلیمات میں اخلاق کو جو مقام حاصل ہے، وہ اس امتیاز کی بنیاد ہے۔
پیغمبرِ اسلام کے مکتبِ فکر میں اخلاق کوئی ایسا ذریعہ نہیں جسے استعمال کرکے آگے بڑھ جائیں، بلکہ اخلاق خود آخری مقصد ہے۔
اس بات کو خود پیغمبر کے ایک نہایت جامع اور سنہری فرمان سے سمجھا جا سکتا ہے، جو اس پورے تصور کو واضح کر دیتا ہے۔
آنحضرت نے فرمایا:إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْأَخْلَاقِ. یعنی:مجھے صرف اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں مکارمِ اخلاق کو کمال تک پہنچا دوں۔
غور کیجیے! آنحضرت نے یہ نہیں فرمایا کہ میں صرف قانون لے کر آیا ہوں، یا صرف تمہیں عبادت کا طریقہ سکھانے آیا ہوں، بلکہ فرمایا: میں اخلاق کو کامل کرنے کے لیے آیا ہوں۔
یعنی پیغمبر کی تعلیمات کے مطابق، اگر آپ کی نماز اور روزہ بالآخر آپ کو زیادہ مہربان، راست گو، دیانت دار اور خوش اخلاق نہیں بناتے تو گویا اس عبادت میں کہیں نہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ عبادت کا انجام اخلاق ہونا چاہیے۔
قرآن نے بھی اس حقیقت کو نہایت خوبصورت اور منفرد انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ قلم میں یہ نہیں فرماتا کہ پیغمبر اچھے اخلاق کے مالک ہیں، بلکہ ارشاد فرماتا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِیمٍ. اور بے شک آپ عظیم اخلاق کے بلند مرتبے پر فائز ہیں۔
اب «خُلقِ عظیم» سے کیا مراد ہے؟
امام صادقؑ سے جب اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپؑ نے ایک چونکا دینے والا جواب دیا۔ فرمایا: هُوَ الْقُرْآنُ. یعنی اس سے مراد خود قرآن ہے!
اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کا اخلاق محض کچھ عام اچھی عادات، مثلاً مسکرانا یا سخاوت، نہیں تھی۔ آنحضرت کا اخلاق ’’خود قرآن‘‘ تھا، جو چلتا پھرتا، گفتگو کرتا اور عملی زندگی گزارتا تھا۔ پیغمبر نے صرف معجزہ نہیں دکھایا، بلکہ معجزے کو اپنی زندگی بنا کر دکھایا۔
شاید بعض لوگ سوال کریں کہ کیا فقہ، احکام اور شریعت اہم نہیں ہیں؟ پھر اخلاق پر اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے؟
یہ ایک نہایت اہم سوال ہے۔ بظاہر یہ بات کچھ عجیب محسوس ہو سکتی ہے، لیکن اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ فقہ ہمیں بتاتا ہے کہ وضو کیسے کرنا ہے، لین دین کیسے کرنا ہے یا وراثت کیسے تقسیم کرنی ہے؛ لیکن اخلاق ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کام ہم ’’کس جذبے‘‘ کے ساتھ اور ’’کیوں‘‘ کریں۔
فقہ کسی عمارت کے ڈھانچے اور ستونوں کی مانند ہے، جبکہ اخلاق اس عمارت کی روح، روشنی اور خوبصورت چہرہ ہے۔
اگر اخلاق موجود نہ ہو تو فقہ محض خشک، بے روح اور حتیٰ کہ خوف ناک قوانین کا مجموعہ بن کر رہ جائے گا۔ پیغمبر اسلام تشریف لائے، تاکہ شریعت کے اس ڈھانچے میں رحمت، انسانیت اور محبت کی روح پھونک دیں۔ تو کیا یہی چیز آنحضرت کو دیگر انبیاء سے ممتاز کرتی ہے؟
جی ہاں، بالکل۔ سابقہ انبیاء بھی عظیم اور بلند مرتبہ تھے، لیکن ان کی بعثت و ذمہ داری زیادہ تر کسی مخصوص قوم یا خاص زمانے تک محدود تھی۔ جبکہ ہمارے پیغمبر تشریف لائے، تاکہ تمام تاریخِ انسانی کے سامنے ایک کامل انسان کا نمونہ پیش کریں۔
ایسی شخصیت جو بازار میں چلتی پھرتی، لوگوں سے خوش طبعی اور مزاح کرتی، جنگ میں سپہ سالار بنتی، راتوں کی عبادت بھی زبان زد عام تھی اور جب دنیا کے تمام خزانے آپ کے سامنے پیش کیے گئے، تب بھی اسی سادہ چٹائی پر سوئی جس کے نشانات آپ کی پشتِ مبارک پر پڑ جاتے تھے۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت کوئی ناقابلِ رسائی فرشتہ نہیں تھے، بلکہ ایک انسان تھے؛ ایسا انسان جس نے ہمیں دکھایا کہ اقتدار کی معراج اور دنیا کی تمام تر مصروفیات کے باوجود انسان اتنا ہی پاکیزہ، متواضع اور مہربان رہ سکتا ہے۔
اسی لیے جاہلیت کے دور میں آنحضرت کے سخت ترین دشمن بھی، اللہ کے رسول سے آشنا ہونے سے برسوں پہلے ’’محمدِ امین‘‘ کو جانتے تھے۔
آنحضرت کا اخلاق اتنا مضبوط اور پاکیزہ تھا کہ وہ دشمنوں کو بھی بے بس کر دیتا تھا۔ آنحضرت نے اپنی اخلاقی شخصیت کی جاذبیت کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر دین کی حکمرانی قائم کی۔
یہی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے پائیدار معجزہ ہے۔
حلفُ الفضول؛ وحی سے پہلے ہی عدل پسندی
ایک نہایت اہم اور شاید کسی حد تک چیلنجنگ سوال یہ ہے کہ بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ پیغمبر کی اخلاقی، سماجی اور عدل پسند شخصیت صرف نبوت کے زمانے اور وحی کے نزول کا نتیجہ تھی۔ لیکن کیا بعثت سے پہلے کے دور کے ایسے مستند شواہد موجود ہیں جو یہ ثابت کریں کہ آنحضرت کا احساسِ عدل اور خُلقِ عظیم پہلے ہی سے آپ کی فطرت اور شخصیت میں رچا بسا تھا؟ اس حوالے سے معروف واقعۂ ’’حلفُ الفضول‘‘ کی کیا اہمیت ہے؟
یہ ایک بہت اچھا سوال ہے۔ درحقیقت حلفُ الفضول (جوانمردوں کا معاہدہ) پیغمبرِ اکرم کی جوانی اور بعثت سے قبل کی سیرت کے درخشاں ترین اور مستند ترین واقعات میں سے ایک ہے، جو عین اسی نکتے کو ثابت کرتا ہے۔
آئیے اس واقعے کو مختصر اور واضح انداز میں بیان کرتے ہیں:
مکہ میں اور اسلام سے قبل کے دور میں ایک یمنی تاجر اپنا مال قریش کے ایک بااثر اور ظالم سردار، عاص بن وائل کے ہاتھ فروخت کرتا ہے۔ لیکن وہ شخص تاجر کا مال تو لے لیتا ہے مگر اس کی قیمت ادا نہیں کرتا۔
یمنی تاجر کی مکہ میں کوئی پناہ گاہ نہیں تھی۔ چنانچہ وہ مکہ کے پہاڑ ابوقبیس پر چڑھ جاتا ہے اور بلند آواز میں فریاد کرتا ہے! اس مظلوم کی فریاد نے تقریباً 20 سالہ نوجوان ’’محمد بن عبداللہ‘‘ کو شدید متاثر کیا۔
نتیجتاً مکہ کے چند قبائل کے بزرگ، جن میں بنو ہاشم بھی شامل تھے، عبداللہ بن جُدعان کے گھر جمع ہوئے اور ایک معاہدہ کیا کہ ہم سب مل کر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر مظلوم کا حق، خواہ وہ مکہ کا رہنے والا ہو یا کسی دوسرے شہر سے اس شہر میں پناہ لینے والا اجنبی، ظالم سے لے کر اسے واپس دلایا جائے۔
پیغمبر نہ صرف اس معاہدے میں شریک تھے، بلکہ اس اجتماع کے قیام کے بنیادی کرداروں میں سے ایک اور اس کے سب سے فعال اور سنجیدہ دستخط کرنے والے شرکاء میں شامل تھے۔
یہاں تک تو یہ جوانی میں کیا جانے والا ایک اچھا سماجی اقدام نظر آتا ہے، لیکن سیرتِ پیغمبر میں اس واقعے کو اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے؟
یہاں ایک نہایت اہم اور چونکا دینے والی بات سامنے آتی ہے۔ کئی برس بعد، جب پیغمبر منصبِ نبوت پر فائز ہوئے اور مکمل اقتدار آپ کے ہاتھ میں تھا تو آپ نے ایک معروف اور مستند خطبے میں ان دنوں کو فخر کے ساتھ یاد کرتے ہوئے فرمایا:لَشَهِدْتُ مَعَ عُمُومَتِي حِلْفًا فِي دَارِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جُدْعَانَ، مَا أُحِبُّ أَنَّ لِيَ بِهِ حُمْرَ النَّعَمِ، وَلَوْ أُدْعَىٰ بِهِ فِي الْإِسْلَامِ لَأَجَبْتُ.
میں اپنے چچاؤں کے ساتھ عبداللہ بن جُدعان کے گھر ایک ایسے معاہدے میں شریک ہوا تھا جسے میں سرخ رنگ کے بہترین اونٹوں (یعنی اُس زمانے کی سب سے قیمتی دولت) کے عوض بھی چھوڑنا پسند نہیں کروں گا اور اگر اسلام کے دور میں بھی مجھے ایسے ہی معاہدے کی طرف بلایا جائے تو میں ضرور اس میں شریک ہوں گا۔
اس جملے کی گہرائی پر غور کیجیے: وحی نے پیغمبر کے وجود میں اخلاق پیدا نہیں کیے، بلکہ آپ کی پاکیزہ اور عدل پسند فطرت کی تائید، تقویت اور اسے عالمگیر حیثیت عطا کی۔
اسی طرح حلفُ الفضول میں ایک طرف مظلوم تھا جو یمنی تاجر، غیر مسلم اور اجنبی تھا، جبکہ دوسری طرف ظالم تھا جو قریش سے تعلق رکھتا تھا۔ پیغمبر نے دورانِ اسلام بھی اس معاہدے کی تائید کرکے ہمیں یہ تعلیم دی کہ انسانی کرامت کا دفاع اور حق کی پاسداری کسی ایک مذہب یا کسی خاص زمانے تک محدود اصول نہیں، بلکہ یہ ایک مذہب سے بالاتر اور ہر زمانے کے لیے آفاقی اصول ہے۔
آپ کا تبصرہ